بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے

عبد الحفیظ نعیمی

بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے

    نگاہیں پھیر لے اپنی نہ خود کو دھوکا دے

    مصاف زیست ہے بھر دے لہو سے جام مرا

    نہ مسکرا کے مجھے ساغر تمنا دے

    کھڑا ہوا ہوں سر راہ منتظر کب سے

    کہ کوئی گزرے تو غم کا یہ بوجھ اٹھوا دے

    وہ آنکھ تھی کہ بدن کو جھلس گئی قربت

    مگر وہ شعلہ نہیں روح کو جو گرما دے

    ہجوم غم وہ رہا عمر بھر در دل پر

    خوشی اسی میں رہی یہ ہجوم رستا دے

    لکھا ہے کیا مرے چہرے پہ تو جو شرمایا

    زبان سے نہ بتا آئنا ہی دکھلا دے

    میں لڑکھڑا سا گیا ہوں وفا کے وعدے پر

    پکڑ کے ہاتھ مجھے گھر تلک تو پہونچا دے

    سکوت انجم و مہ نے چھپا لیا ہے جسے

    جھکی نظر نہ کسی کو وہ راز بتلا دے

    ہر ایک درد کا درماں ہے لوگ کہتے ہیں

    مگر وہ درد نعیمیؔ جو خود مسیحا دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY