بہت جمود تھا بے حوصلوں میں کیا کرتا

فضا ابن فیضی

بہت جمود تھا بے حوصلوں میں کیا کرتا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    بہت جمود تھا بے حوصلوں میں کیا کرتا

    نہ لگتی آگ تو میں جنگلوں میں کیا کرتا

    اک امتحان وفا ہے یہ عمر بھر کا عذاب

    کھڑا نہ رہتا اگر زلزلوں میں کیا کرتا

    ہو چوب گیلی تو آخر جلائے کون اس کو

    میں تجھ کو یاد بجھے ولولوں میں کیا کرتا

    مری تمام حرارت زمیں کا ورثہ ہے

    یہ آفتاب ترے بادلوں میں کیا کرتا

    اب اس قدر بھی طرفدار میں نہیں اس کا

    حمایت اس کی غلط فیصلوں میں کیا کرتا

    یہ لوگ وہ ہیں جو بے جرم سنگسار ہوئے

    حریف رہ کے ترے منچلوں میں کیا کرتا

    میں اس کے چہرے کی رنگت نہیں جو اڑ نہ سکوں

    سمیٹ کر وہ مجھے آنچلوں میں کیا کرتا

    ادب سے رابطہ دانش کا جانتا ہی نہیں

    الجھ کے وہ بھی مرے مسئلوں میں کیا کرتا

    نہ راس آئی کبھی مجھ کو بزم کم نظراں

    فضاؔ بھی بیٹھ کے ان پاگلوں میں کیا کرتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY