بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا

شاد عظیم آبادی

بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا

    مری جاں غم عبث ہے جھڑکیاں سننے کا دن آیا

    ضرور اس نے کیا قاصد سے وعدہ اپنے آنے کا

    گیا تھا مضطرب یاں سے وہاں سے مطمئن آیا

    دل صد پارہ سے نسبت نہیں زنہار اے بلبل

    چمن میں جا کے عاشق پتیاں پھولوں کی گن آیا

    بڑی عظمت سے خود ساقی نے جا کر پیشوائی کی

    شرابی کوئی مے خانہ کے اندر جب مسن آیا

    چلو واعظ سے ہرگز کچھ نہ بولو چپ رہو رندو

    ہوا جوش غضب یا سر پہ اس ناداں کے جن آیا

    مریض غم کی صحت کی خبر اللہ سنوائے

    گیا جو پاس اس کے شادؔ وہ پھر مطمئن آیا

    مآخذ :
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 121)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY