بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

عرش صدیقی

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    INTERESTING FACT

    (قلمی عکس، 1960)

    بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

    زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا

    خود ان کے پاس جاؤں نہ ان کو بلاؤں پاس

    پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا

    اپنی زباں کو آج وہ تاثیر ہے نصیب

    جس کو خدائے حسن کہا وہ خدا ہوا

    اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنی

    قاتل ہے میرے حجلۂ جاں میں چھپا ہوا

    جاں ہے تو فکر عشرت بزم جہاں بھی ہے

    کب دل سے درد عالم امکاں جدا ہوا

    ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبر

    کس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا

    ہے راہوار شوق پہ آسیب بے دلی

    رکھا ہے کب سے سامنے ساغر بھرا ہوا

    حاصل ہے جس کو عرشؔ فضاؤں پہ اختیار

    وہ دل کے ساتھ کھیل رہا ہے تو کیا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY