بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کا

کبیر اجمل

بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کا

کبیر اجمل

MORE BYکبیر اجمل

    بجائے گل مجھے تحفہ دیا ببولوں کا

    میں منحرف تو نہیں تھا ترے اصولوں کا

    ازالہ کیسے کرے گا وہ اپنی بھولوں کا

    کہ جس کے خون میں نشہ نہیں اصولوں کا

    نفس کا قرض چکانا بھی کوئی کھیل نہیں

    وہ جان جائے گا انجام اپنی بھولوں کا

    نئی تلاش کے یہ میر کارواں ہوں گے

    بناتے جاؤ یوں ہی سلسلہ بگولوں کا

    یہ آڑی ترچھی لکیریں بدل نہیں سکتیں

    ہزار واسطہ دیتے رہو اصولوں کا

    تمام فلسفۂ کائنات کھل جاتے

    کہاں سے ٹوٹ گیا سلسلہ نزولوں کا

    انہیں سے مجھ کو ملا عزم زندگی اجملؔ

    میں جانتا ہوں کہ کیا ہے مقام پھولوں کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے