بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

عامر امیر

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

عامر امیر

MORE BYعامر امیر

    بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    محبت کا تماشائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    وہ جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیں

    تبھی سے ماہ جولائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    وہ شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ اس کی باتوں کا

    قریباً ایک چوتھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    نہ جانے اتنی کڑواہٹ کہاں سے آ گئی مجھ میں

    کرے جو میری اچھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    مرے دشمن کو اتنی فوقیت تو ہے بہر صورت

    کہ تو ہے اس کی ہمسائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    نہ اتنی داد دو جس میں مری آواز دب جائے

    کرے جو یوں پذیرائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    تری خاطر نظر انداز کرتا ہوں اسے ورنہ

    وہ جو ہے نا ترا بھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عامر امیر

    عامر امیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY