بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

عاصم واسطی

بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

    لرز رہا تھا مرا ہاتھ رنگ بھرتے ہوئے

    میں انہماک میں یہ کس مقام تک پہنچا

    تجھے ہی بھول گیا تجھ کو یاد کرتے ہوئے

    نظام کن کے سبب انتشار ہے مربوط

    یہ کائنات سمٹتی بھی ہے بکھرتے ہوئے

    کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے

    یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں اترتے ہوئے

    ہمیں یہ وقت ڈراتا کچھ اس طرح بھی ہے

    ٹھہر نہ جائے کہیں حادثہ گزرتے ہوئے

    کچھ اعتبار نہیں اگلی نسل پر ان کو

    وصیتیں نہیں کرتے یہ لوگ مرتے ہوئے

    ہر ایک ضرب تو ہوتی نہیں عیاں عاصمؔ

    ہزار نقش ہوئے مندمل ابھرتے ہوئے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY