عاصم واسطی
غزل 155
نظم 8
اشعار 27
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بدل گیا ہے زمانہ بدل گئی دنیا
نہ اب وہ میں ہوں مری جاں نہ اب وہ تو تو ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم
بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے
کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
عجیب شور مچانے لگے ہیں سناٹے
یہ کس طرح کی خموشی ہر اک صدا میں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے