بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہے

عروج زیدی بدایونی

بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہے

    اب جو اپنا حشر ہونا ہے ہمیں معلوم ہے

    حسب نیرنگ جہاں دل شاد یا مغموم ہے

    آدمی جذبات کا حاکم نہیں محکوم ہے

    اب تکلف بر طرف یہ آپ کو معلوم ہے

    کیوں مرا خواب وفا تعبیر سے محروم ہے

    حسن خود تڑپا کیا ہے مجھ کو تڑپانے کے بعد

    سوچنا پڑتا ہے وہ ظالم ہے یا مظلوم ہے

    خواب آخر خواب ہے اس خواب کا کیا اعتبار

    جنت نظارہ گویا جنت موہوم ہے

    ہائے یہ طرفہ مآل آرزوئے صبح نو

    جس طرف نظریں اٹھاتا ہوں فضا مسموم ہے

    میرے کردار وفا کی آئینہ داری بخیر

    کیوں زبان دوست پر ال شاذ و کل معدوم ہے

    دیکھنے کی چیز ہے یہ سحر انداز نظر

    ان کا ہر مبہم اشارہ حامل مفہوم ہے

    خار بھی نا مطمئن ہیں پھول بھی نا مطمئن

    باغباں کے اس نظام گلستاں کی دھوم ہے

    اب اسے ماحول جس قالب میں چاہے ڈھال دے

    فطرتاً تو آدمی اک پیکر مفہوم ہے

    جو بھری محفل میں نظروں کی ہوئی ہے گفتگو

    حسن کو معلوم ہے یا عشق کو معلوم ہے

    کتنی کیف آور ہے ان کی شرکت غم بھی عروجؔ

    ماتم دل کی جگہ جشن دل مرحوم ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 85)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY