برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں

زینت شیخ

برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں

زینت شیخ

MORE BYزینت شیخ

    برباد ہو گئے ہیں بہت تیرے پیار میں

    افسردہ آج بیٹھے ہیں غم کے حصار میں

    لیتی ہوں روز لطف اذیت بہار میں

    انگلی چبھوتی رہتی ہوں میں نوک خار میں

    کب لوٹ کر تو آئے گا اے میرے ہم نشیں

    صدیاں گزر گئیں ہیں ترے انتظار میں

    بکھرا ہوا ہے چار سو یادوں کا اک ہجوم

    ہلچل مچی ہوئی ہے دل بے قرار میں

    تنہائیوں کے دشت میں جینا محال ہے

    لمحے پہاڑ ہونے لگے ہجر یار میں

    در در کی خاک چھان رہی ہوں ترے لیے

    صورت بگڑ گئی مری گرد و غبار میں

    فرصت کہاں کہ ڈھونڈھنے جاؤں مسرتیں

    زینتؔ الجھ گئی ہوں غم بے شمار میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے