برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی

فہیم شناس کاظمی

برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی

    ہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئی

    اب ساحلوں پہ کس کو صدا دے رہے ہو تم

    لمحوں کے بادبان کھلے دیر ہو گئی

    اے حسن خود پرست ذرا سوچ تو سہی

    مہر و وفا سے تجھ کو ملے دیر ہو گئی

    تیرا وصال خیر اب اک واقعہ ہوا

    اب اپنے آپ سے بھی ملے دیر ہو گئی

    صدیوں کی ریت ڈھانپ کر آسودہ ہو گئے

    سر کو ہمارے تن سے کٹے دیر ہو گئی

    صرصر ہو یا صبا ہو کہ ہوں تیز آندھیاں

    ہم کو فصیل شب پہ جلے دیر ہو گئی

    تیری گلی کے موڑ پہ پہنچے تھے جلد ہم

    پر تیرے گھر کو آتے ہوئے دیر ہو گئی

    اک دور تھا شناسؔ صدا تھی مری بلند

    اور اب تو میرے ہونٹ سلے دیر ہو گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY