بسی ہوئی ہے یہ کیسی خوشبو مجھ میں
بسی ہوئی ہے یہ کیسی خوشبو مجھ میں
شاید آ کر بیٹھ گیا ہے تو مجھ میں
ظلمت میں یہ نور کہاں سے پھیلا ہے
بول رہا ہے کون یہ اللہ ہو مجھ میں
تیری طلب میں جان تمنا ہر شب کیوں
جلتے بجھتے رہتے ہیں جگنو مجھ میں
دل پاگل کیوں ناچ رہا ہے سوچتا ہوں
ٹوٹ رہے ہیں یہ کیسے گھنگھرو مجھ میں
تم میری تعریف کے پل کیوں باندھتے ہو
نکلیں گے تضحیک کے بھی پہلو مجھ میں
غم میں کسی کے آنکھیں بہتی رہتی ہیں
جذب کہاں ہو پاتے ہیں آنسو مجھ میں
جان لیا ہے میں نے ہر شے فانی ہے
اے دنیا پھر کیوں ہو تیری خو مجھ میں
شاعر ہوں کیا ایرا غیرا سمجھا ہے
ڈھونڈ رہے ہو کیوں نتھو خیرو مجھ میں
شمسؔ میں خود یہ راز نہ اب تک جان سکا
میں اردو میں ضم ہوں یا اردو مجھ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.