بزم احباب میں پھیلی جو سخن کی خوشبو

کمال جعفری

بزم احباب میں پھیلی جو سخن کی خوشبو

کمال جعفری

MORE BYکمال جعفری

    بزم احباب میں پھیلی جو سخن کی خوشبو

    مجھ کو محسوس ہوئی مشک ختن کی خوشبو

    میرے اشعار میں ہے گنگ و جمن کی خوشبو

    مجھ کو لگتی ہے بھلی ارض وطن کی خوشبو

    باغ جنت کے بھی پھولوں میں نہیں ہو سکتی

    ایسی ہوتی ہے شہیدوں کے بدن کی خوشبو

    جو روایات کے منکر ہیں یہ کہہ دو ان سے

    میری تہذیب میں ہے عہد کہن کی خوشبو

    مجھ کو فرسودہ مضامین سے نسبت ہی نہیں

    میری غزلوں میں ہے پاکیزہ چلن کی خوشبو

    یوں تو وابستہ ہوں ہر شعبۂ ہستی سے کمالؔ

    مست رکھتی ہے مگر شعر و سخن کی خوشبو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY