بے دیے لے اڑا کبوتر خط

سید یوسف علی خاں ناظم

بے دیے لے اڑا کبوتر خط

سید یوسف علی خاں ناظم

MORE BYسید یوسف علی خاں ناظم

    بے دیے لے اڑا کبوتر خط

    یوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خط

    پرزے پرزے ہوا سراسر خط

    ایک خط کے بنے بہتر خط

    قتل ہوتے ہیں نامہ بر ہر روز

    لاش پر لاش اور خط پر خط

    روز اک نامہ بر کہاں سے آئے

    یوں ہی رکھ چھوڑتا ہوں لکھ کر خط

    کیا قلم نے شرر فشانی کی

    پھلجڑی بن گیا مرا ہر خط

    چار ہیں گے کل ان کے ہم سایے

    لکھ کے دے آئے آج ہم سر خط

    جو کہ لیتے نہیں ہیں میرا نام

    وہ لکھیں گے مجھے مقرر خط

    کس طرح سر نوشت کو بدلوں

    خط میں مل جائے غیر کے گر خط

    پڑھ تو لیں گے وہ نامہ میرا بھی

    آتے رہتے ہیں اس کے اکثر خط

    دیکھ کر نام پھینک دیں گے ضرور

    پھر نہ لیں گے کبھی مکرر خط

    ڈاک گھر میں ٹکٹ نہیں باقی

    ناظمؔ اتنے گئے ہیں خط پر خط

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY