بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

    خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میں

    پیہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں میں

    دولت ہے غم زکوٰۃ دئیے جا رہا ہوں میں

    مجبوری کمال محبت تو دیکھنا

    جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں میں

    وہ دل کہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے

    مجبوریاں ہیں ساتھ دئیے جا رہا ہوں میں

    رخصت ہوئی شباب کے ہم راہ زندگی

    کہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں میں

    پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب

    کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY