بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق

ابو الحسنات حقی

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق

ابو الحسنات حقی

MORE BY ابو الحسنات حقی

    INTERESTING FACT

    شمارہ 264 جنوری 2003

    بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق

    بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق

    کم نہاد و بے ثبات انسان میں

    جانے کیا کیا جمع کر دیتا ہے عشق

    کون جانے اس کی الٹی منطقیں

    ٹوٹے ہاتھوں میں سپر دیتا ہے عشق

    پہلے کر دیتا ہے سب عالم سیاہ

    اور پھر اپنی خبر دیتا ہے عشق

    جان دینا کھیلتے ہنستے ہوئے

    قتل ہونے کا ہنر دیتا ہے عشق

    کٹ گریں اور پھر بھی قائم ہیں صفیں

    کتنے بازو کتنے سر دیتا ہے عشق

    سر برہنہ ہیں انا گنبد جو تھے

    آندھیوں سے سو کو بھر دیتا ہے عشق

    درد مندی پر جو قائم ہوں انہیں

    نور افزا چشم تر دیتا ہے عشق

    ایک بوجھل رات کٹ جانے کے بعد

    ایک لمحے کو سحر دیتا ہے عشق

    یہ سمجھ تم کو بھی ہوگی صاحبو

    دل کو کیوں شعلوں میں دھر دیتا ہے عشق

    چل نکلنے کا ارادہ باندھئے

    دیکھیے سمت سفر دیتا ہے عشق

    قدر ہے جس کی خیام حور میں

    آبرو کا وہ گہر دیتا ہے عشق

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق فہد حسین

    مآخذ:

    • کتاب : Shabkhoon (Urdu Monthly) (Pg. 664)
    • Author : Shamsur Rahman Faruqi
    • مطبع : Shabkhoon Po. Box No.13, 313 rani Mandi Allahabad (June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II)
    • اشاعت : June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY