بے نیازی سے مدارات سے ڈر لگتا ہے

حبیب اشعر دہلوی

بے نیازی سے مدارات سے ڈر لگتا ہے

حبیب اشعر دہلوی

MORE BYحبیب اشعر دہلوی

    بے نیازی سے مدارات سے ڈر لگتا ہے

    جانے کیا بات ہے ہر بات سے ڈر لگتا ہے

    ساغر بادۂ گل رنگ تو کچھ دور نہیں

    نگہ پیر خرابات سے ڈر لگتا ہے

    دل پہ کھائی ہوئی اک چوٹ ابھر آتی ہے

    تیرے دیوانے کو برسات سے ڈر لگتا ہے

    اے دل افسانۂ آغاز وفا رہنے دے

    مجھ کو بیتے ہوئے لمحات سے ڈر لگتا ہے

    ہاتھ سے ضبط کا دامن نہ کہیں چھٹ جائے

    آپ کی پرسش حالات سے ڈر لگتا ہے

    میں جو اس بزم میں جاتا نہیں اشعرؔ مجھ کو

    اپنے سہمے ہوئے جذبات سے ڈر لگتا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-368 E382)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY