بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں

عابد مناوری

بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں

عابد مناوری

MORE BYعابد مناوری

    بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں

    ایک اجڑا ہوا مکان ہوں میں

    جنگ تو ہو رہی ہے سرحد پر

    اپنے گھر میں لہولہان ہوں میں

    غم و آلام بھی ہیں مجھ کو عزیز

    قدر دانوں کا قدردان ہوں میں

    ضبط تہذیب ہے محبت کی

    وہ سمجھتے ہیں بے زبان ہوں میں

    لب پہ اخلاص ہاتھ میں خنجر

    کیسے یاروں کے درمیان ہوں میں

    چھید ہی چھید ہیں فقط جس میں

    ایسی کشتی کا بادبان ہوں میں

    جو کسی کو بھی آج یاد نہیں

    بھولی بسری وہ داستان ہوں میں

    یا گراں گوش ہے نگر کا نگر

    یا کسی دشت میں اذان ہوں میں

    شاعری ہو کہ عاشقی عابدؔ

    ہر روایت کا پاسبان ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY