بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریں

حفیظ بنارسی

بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریں

حفیظ بنارسی

MORE BYحفیظ بنارسی

    بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریں

    زندگی تو ہی بتا کب تک ترا پیچھا کریں

    روئے گل ہو چہرۂ مہتاب ہو یا حسن دوست

    ہر چمکتی چیز کو کچھ دور سے دیکھا کریں

    بے نیازی خود سراپا التجا بن جائے گی

    آپ اپنی داستاں میں حسن تو پیدا کریں

    دل کہ تھا خوش فہم آگاہ حقیقت ہو گیا

    شکر بھیجیں یا تری بیداد کا شکوہ کریں

    مغبچوں سے محتسب تک سیکڑوں دربار ہیں

    ایک ساغر کے لیے کس کس کو ہم سجدہ کریں

    تشنگی حد سے بڑھی ہے مشغلہ کوئی نہیں

    شیشہ و ساغر نہ توڑیں بادہ کش تو کیا کریں

    دوسروں پر تبصرہ فرمانے سے پہلے حفیظؔ

    اپنے دامن کی طرف بھی اک نظر دیکھا کریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY