بھر نہیں پایا ابھی تک زخم کاری ہائے ہائے

انیس انصاری

بھر نہیں پایا ابھی تک زخم کاری ہائے ہائے

انیس انصاری

MORE BYانیس انصاری

    INTERESTING FACT

    15نومبر2002لکھنؤ

    بھر نہیں پایا ابھی تک زخم کاری ہائے ہائے

    دل کو تھامے ہیں لہو پھر بھی ہے جاری ہائے ہائے

    درد کا احساس گھٹ جاتا اگر چاہے کوئی

    ہو رہی ہے اور الٹے دل فگاری ہائے ہائے

    جسم تو پہلے ہی زخمی تھا مگر باقی تھا دل

    اب عدو کے ہاتھ میں خنجر ہے بھاری ہائے ہائے

    ہجر میں ویسے بھی آتی ہے مصیبت جان پر

    پر رقیبوں کی الگ ہے خندہ کاری ہائے ہائے

    ریزہ ریزہ کر دیا ظالم نے سارے جسم کو

    اڑ رہی ہے خاک پیروں پر ہماری ہائے ہائے

    دل گرفتہ ہو کے چپ بیٹھے ہیں شاید اس طرح

    رحم آئے دیکھ کر صورت ہماری ہائے ہائے

    دست قاتل صید بننے سے نہیں رکتا کبھی

    ہے عبث بے چارگی و آہ و زاری ہائے ہائے

    جو پرندے اڑ نہیں سکتے اب ان کی خیر ہو

    آنے والا ہے اسی جانب شکاری ہائے ہائے

    راہ سے پتھر اٹھا کر سوئے ظالم پھینک دے

    گر نہیں تیروں کی تجھ میں ضرب کاری ہائے ہائے

    ایک قبلہ اک اذاں اور ایک مجلس اک امام

    کاش آ جائے سمجھ میں یہ تمہاری ہائے ہائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY