بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

شاد عظیم آبادی

بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    شکل نمایاں ہوگی سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    آنکھیں ملتے صحن چمن میں جھوم کے اٹھے نیند کے ماتے

    دیکھ صبا نے آ کے خبر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    نیلے نیلے رنگ کے اوپر بڑھتی ہی جاتی ہے سفیدی

    ہو گئی رنگت زر و قمر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    زور نہ طاقت سنگ نہ ساتھی پاؤں سے اپنے آپ ہے چلنا

    تجھ پہ ہے بھاری راہ سفر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    تجھ پہ میں قرباں جانی پیارے ہم نفس و ہم درد ہمارے

    تجھ سے ہے الفت میں نے خبر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    پنکھ پکھیرو خواب سے چونکے سب نے خوشی کے نعرے مارے

    آئی صدا مرغان سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    کوچ کی ساعت آ گئی سر پر شادؔ اٹھا لے جھولی بستر

    نیند میں ساری رات بسر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

    مآخذ
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 297)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY