بچھڑنے کی سہولت مل نہ جائے

صائمہ آفتاب

بچھڑنے کی سہولت مل نہ جائے

صائمہ آفتاب

MORE BYصائمہ آفتاب

    بچھڑنے کی سہولت مل نہ جائے

    مکیں کو اذن ہجرت مل نہ جائے

    میں کانپ اٹھتی ہوں اتنا سوچ کر ہی

    کہ تو حسب ضرورت مل نہ جائے

    ہتھیلی سے نہ مس ہو جائے ناول

    فسانے سے حقیقت مل نہ جائے

    بیابانوں سے جو گھبرا کے لوٹے

    انہیں بستی میں وحشت مل نہ جائے

    میں ورد سورۂ رحمان رکھوں

    مجھے جب تک ہدایت مل نہ جائے

    تواتر سے اگر ملتے رہے ہم

    کہیں اپنی طبیعت مل نہ جائے

    بڑی شدت سے جینا چاہتی تھی

    مگر اب یہ اجازت مل نہ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY