بدعت مسنون ہو گئی ہے

نظم طبا طبائی

بدعت مسنون ہو گئی ہے

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    بدعت مسنون ہو گئی ہے

    امت مطعون ہو گئی ہے

    کیا کہنا تری دعا کا زاہد

    گردوں کا ستون ہو گئی ہے

    رہنے دو اجل جو گھات میں ہے

    مجھ پر مفتون ہو گئی ہے

    حسرت کو غبار دل میں ڈھونڈو

    زندہ مدفون ہو گئی ہے

    وحشت کا تھا نام اول اول

    اب تو وہ جنون ہو گئی ہے

    واعظ نے بری نظر سے دیکھا

    مے شیشے میں خون ہو گئی ہے

    عارض کے قرین گلاب کا پھول

    ہم رنگ کی دون ہو گئی ہے

    بندہ ہوں ترا زبان شیریں

    دنیا ممنون ہو گئی ہے

    حیدرؔ شب غم میں مرگ ناگاہ

    شادی کا شگون ہو گئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY