بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے

راحت اندوری

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے

راحت اندوری

MORE BYراحت اندوری

    بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے

    میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے

    اللہ برکتوں سے نوازے گا عشق میں

    ہے جتنی پونجی پاس لگا دینی چاہیے

    دل بھی کسی فقیر کے حجرے سے کم نہیں

    دنیا یہیں پہ لا کے چھپا دینی چاہیے

    میں خود بھی کرنا چاہتا ہوں اپنا سامنا

    تجھ کو بھی اب نقاب اٹھا دینی چاہیے

    میں پھول ہوں تو پھول کو گلدان ہو نصیب

    میں آگ ہوں تو آگ بجھا دینی چاہیے

    میں تاج ہوں تو تاج کو سر پر سجائیں لوگ

    میں خاک ہوں تو خاک اڑا دینی چاہیے

    میں جبر ہوں تو جبر کی تائید بند ہو

    میں صبر ہوں تو مجھ کو دعا دینی چاہیے

    میں خواب ہوں تو خواب سے چونکایئے مجھے

    میں نیند ہوں تو نیند اڑا دینی چاہیے

    سچ بات کون ہے جو سر عام کہہ سکے

    میں کہہ رہا ہوں مجھ کو سزا دینی چاہیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    منور رانا

    منور رانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY