بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے

شوکت واسطی

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے

شوکت واسطی

MORE BYشوکت واسطی

    بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے

    سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے

    جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے

    کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے

    انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے

    جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے

    ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں

    لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ہوئے

    انساں ہیں اب تو مدتوں ہم دیوتا رہے

    شکلیں نہیں بنیں جو ہیولیٰ نہیں ہوئے

    ٹھہرو ابھی یہ کھیل مکمل نہیں ہوا

    جی بھر کے ہم تمہارا تماشا نہیں ہوئے

    ہر سر سے آسمان کی چھت اٹھ نہیں گئی

    کب تجربے میں شہر یہ صحرا نہیں ہوئے

    شوکتؔ دیار شوق کی رونق انہی سے ہے

    جو اپنی ذات میں کبھی تنہا نہیں ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    شوکت واسطی

    شوکت واسطی

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 565)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY