بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا

صادق

بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا

صادق

MORE BYصادق

    بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا

    سبزہ پہ موسموں کا لہو خشک ہو گیا

    گم نام دن کی پچھلی قطاروں کا فاصلہ

    آواز کی حدوں سے بہت دور ہو گیا

    بائیں طرف کے راستے سانسوں میں بٹ گئے

    اگلے قدم کی چاپ پہ وہ خون رو گیا

    سورج کا ظلم سر کو جھلستا رہا مگر

    دن دھوپ کے اتھاہ سمندر کو ڈھو گیا

    سڑکوں کی بھیڑ کھا گئی پہچان فرد کی

    سوچوں کا شور شکل کی رونق کو رو گیا

    ہر گھر کے راستے میں ندی آ کھڑی ہوئی

    ہر راستہ نہ جانے کہاں جا کے کھو گیا

    ان پانیوں کے بھید کوئی جانتا نہیں

    واپس کبھی نہ لوٹ سکا ان میں جو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY