بوجھ خوابوں کا ان آنکھوں سے بہت ڈھویا تھا

معین شاداب

بوجھ خوابوں کا ان آنکھوں سے بہت ڈھویا تھا

معین شاداب

MORE BYمعین شاداب

    بوجھ خوابوں کا ان آنکھوں سے بہت ڈھویا تھا

    اور پھر میں بھی نتیجے میں لہو رویا تھا

    دکھ میں شرکت کا یقیں ہو بھی اسے تو کیسے

    دل سے رویا تھا میں آنکھوں سے نہیں رویا تھا

    دیکھ کر فصل اندھیروں کی یہ حیرت کیسی

    تو نے کھیتوں میں اجالا ہی کہاں بویا تھا

    گم اگر سوئی بھی ہو جائے تو دل دکھتا ہے

    اور ہم نے تو محبت میں تجھے کھویا تھا

    جیت اس بار بھی کچھوے کی ہوئی حیرت ہے

    دوڑ میں اب کے تو خرگوش نہیں سویا تھا

    جسم ناسوروں سے سجنا ہی تھا تم نے شادابؔ

    پٹیاں دھوئی تھیں زخموں کو کہاں دھویا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY