بجھے چراغ جلانے میں دیر لگتی ہے

سردار سوز

بجھے چراغ جلانے میں دیر لگتی ہے

سردار سوز

MORE BYسردار سوز

    بجھے چراغ جلانے میں دیر لگتی ہے

    نصیب اپنا بنانے میں دیر لگتی ہے

    وطن سے دور مسافر چلے تو جاتے ہیں

    وطن کو لوٹ کے آنے میں دیر لگتی ہے

    تعلقات تو اک پل میں ٹوٹ جاتے ہیں

    کسی کو دل سے بھلانے میں دیر لگتی ہے

    بکھر تو جاتے ہیں پل بھر میں دل کے سب ٹکڑے

    مگر یہ ٹکڑے اٹھانے میں دیر لگتی ہے

    یہ ان کی یاد کی خوشبو بھی کیسی ہے خوشبو

    چلی تو آتی ہے جانے میں دیر لگتی ہے

    وہ ضد بھی ساتھ میں لاتے ہیں جانے جانے کی

    یہ اور بات کہ آنے میں دیر لگتی ہے

    یہ گھونسلے ہیں پرندوں کے ان کو مت توڑو

    انہیں دوبارہ بنانے میں دیر لگتی ہے

    وہ دور عشق کی رنگیں حسین یادوں کے

    نقوش دل سے مٹانے میں دیر لگتی ہے

    یہ داغ ترک مراسم نہ دیجئے ہم کو

    جگر کے داغ مٹانے میں دیر لگتی ہے

    خبر بھی ہے تجھے دل کو اجاڑنے والے

    دلوں کی بستی بسانے میں دیر لگتی ہے

    تمہیں قسم ہے بجھاؤ نہ پیار کی شمعیں

    انہیں بجھا کے جلانے میں دیر لگتی ہے

    بھلاؤں کیسے اچانک کسی کا کھو جانا

    یہ حادثات بھلانے میں دیر لگتی ہے

    ذرا سی بات پہ ہم سے جو روٹھ جاتے ہیں

    انہیں تو سوزؔ منانے میں دیر لگتی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY