بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے

نسیم سحر

بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے

نسیم سحر

MORE BYنسیم سحر

    بوند پانی کو مرا شہر ترس جاتا ہے

    اور بادل ہے کہ دریا پہ برس جاتا ہے

    آتشیں دھوپ سے ملتی ہے کبھی جس کو نمو

    وہی پودا کبھی بارش سے جھلس جاتا ہے

    راہ تشکیل وہ ارباب وفا نے کی تھی

    اب جہاں قافلۂ اہل ہوس جاتا ہے

    ہو چکی بوئے وفا شہر سے رخصت کب کی

    کوئی دن ہے کہ پھلوں میں سے بھی رس جاتا ہے

    آدمی پر وہ کڑا وقت بھی آتا ہے کہ جب

    سانس لینے پس دیوار قفس جاتا ہے

    تم بھرے شہر میں کس ڈھنگ سے رہتے ہو نسیمؔ

    گویا ویرانے میں جا کر کوئی بس جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے