چاہت جی کا روگ ہے پیارے جی کو روک لگاؤ کیوں

سجاد باقر رضوی

چاہت جی کا روگ ہے پیارے جی کو روک لگاؤ کیوں

سجاد باقر رضوی

MORE BYسجاد باقر رضوی

    چاہت جی کا روگ ہے پیارے جی کو روک لگاؤ کیوں

    جیسی کرنی ویسی بھرنی اب اس پر پچھتاؤ کیوں

    سرخ ہیں آنکھیں زرد ہے چہرہ رنگوں کی ترتیب عجیب

    اس بے رنگ زمانے کو تم ایسے رنگ دکھاؤ کیوں

    دل کا در کب بند ہوا ہے کوئی آئے کوئی جائے

    جو آئے اور کبھی نہ جائے وہ مہمان بلاؤ کیوں

    صبح کا بھولا شام کو واپس گھر آئے تو غنیمت ہے

    جن گلیوں میں جا کے نہ لوٹو ان گلیوں میں جاؤ کیوں

    آس کی ڈور بہت نازک تھی بوجھ پڑا تو ٹوٹ گئی

    تیز ہوائیں جب چلتی ہوں اونچی پیچ لڑاؤ کیوں

    ساری رتیں آنی جانی ہیں ہر رب کا ہے اپنا رنگ

    رنگ کا دھوکا کھانے والو اپنا رنگ اڑاؤ کیوں

    آس کا دامن چھوٹ گیا تو ہاتھوں کو آزاد نہ دو

    اپنی چادر چھوٹی ہو تو پاؤں بہت پھیلاؤ کیوں

    پیار کی شدت دل کی حدت باقرؔ اس کو راس نہیں

    گرم ہوا کے جھونکوں سے اس پھول کو تم کمہلاؤ کیوں

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-Baqir (Pg. 213)
    • Author : Sajjad Baqir Rizvi
    • مطبع : Sayyed Mohammad Ali Anjum Rizvi (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY