چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

مضطر خیرآبادی

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

    حسرت کسی عاشق کی نکالی بھی گئی ہے

    تم نے کسی بیمار کو اچھا بھی کیا ہے

    حالت کسی بگڑے کی سنبھالی بھی گئی ہے

    تم کھیل سمجھتے ہو مگر یہ تو بتاؤ

    آہ‌ دل مضطر کبھی خالی بھی گئی ہے

    کیا خاک کروں میں خلش عشق کا شکوہ

    یہ پھانس کبھی تم سے نکالی بھی گئی ہے

    جھگڑے بھی کہیں رشک رقابت کے مٹے ہیں

    الفت میں کبھی خام خیالی بھی گئی ہے

    مضطرؔ کو کبھی حسن کا صدقہ بھی دیا ہے

    یہ بھیک کبھی آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 235)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY