چاند کو تالاب مجھ کو خواب واپس کر دیا

عباس تابش

چاند کو تالاب مجھ کو خواب واپس کر دیا

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    چاند کو تالاب مجھ کو خواب واپس کر دیا

    دن ڈھلے سورج نے سب اسباب واپس کر دیا

    اس طرح بچھڑا کہ اگلی رونقیں پھر آ گئیں

    اس نے میرا حلقۂ احباب واپس کر دیا

    پھر بھٹکتا پھر رہا ہے کوئی برج دل کے پاس

    کس کو اے چشم ستارہ یاب واپس کر دیا

    میں نے آنکھوں کے کنارے بھی نہ تر ہونے دیئے

    جس طرف سے آیا تھا سیلاب واپس کر دیا

    جانے کس دیوار سے ٹکرا کے لوٹ آئی ہے گیند

    جانے کس دیوار نے مہتاب واپس کر دیا

    پھر تو اس کی یاد بھی رکھی نہ میں نے اپنے پاس

    جب کیا واپس تو کل اسباب واپس کر دیا

    التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک

    بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے