چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا

عروج زیدی بدایونی

چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا

    خواب دیکھا ہے تو کیا خواب کا چرچا کرنا

    حسن برہم سے مرا عرض تمنا کرنا

    جیسے طوفان میں ساحل سے کنارا کرنا

    راس آئے گا نہ یہ کوشش بے جا کرنا

    بد گمانی کو بڑھا کر مجھے تنہا کرنا

    میری جانب سے ہے خاموش دریچے کا سوال

    کب سے سیکھا تری آواز نے پروا کرنا

    ہر قدم پر مری کانٹوں نے پذیرائی کی

    جرم پوچھو تو بہاروں کی تمنا کرنا

    دعوت شوخیٔ تقدیر اسے کہتے ہیں

    کار امروز نہ کرنا غم فردا کرنا

    ان کی محتاط نگاہی نے بھرم کھول دیا

    جن کو منظور نہ تھا راز کا افشا کرنا

    وقت کے ہاتھوں میں تریاک بھی ہے زہر بھی ہے

    اس کو یک رنگ سمجھ کر نہ بھروسا کرنا

    ترجمان غم دل ان کی نظر ہوتی ہے

    جن کو آتا نہیں اظہار تمنا کرنا

    خود نمائی نہیں انسان کی خودداری ہے

    پرچم عظمت کردار کو اونچا کرنا

    ظلمت جنبش لب کی نہیں امید مگر

    نگہ ناز نہ بھولے گی اشارا کرنا

    گو میں یوسف نہیں دامن تو مرے پاس بھی ہے

    تم ذرا پیروی‌ دست زلیخا کرنا

    اے کہ تو نازش صناعیٔ دست فطرت

    کاش آتا نہ تجھے خون تمنا کرنا

    جادۂ عشق میں اک ایسا مقام آتا ہے

    شرط اول ہے جہاں ترک تمنا کرنا

    آپ کے عہد وفا پر مرا ایماں جیسے

    کسی گرتی ہوئی دیوار پہ تکیہ کرنا

    کوشش ضبط میں ہر سانس قیامت ہے عروجؔ

    کھیل سمجھے ہو غم دل کو گوارا کرنا

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 100)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY