چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے

مخمور سعیدی

چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    چڑھتے دریا سے بھی گر پار اتر جاؤ گے

    پانو رکھتے ہی کنارے پہ بکھر جاؤ گے

    وقت ہر موڑ پہ دیوار کھڑی کر دے گا

    وقت کی قید سے گھبرا کے جدھر جاؤ گے

    خانہ برباد سمجھ کر ہمیں ڈھلتی ہوئی رات

    طنز سے پوچھتی ہے کون سے گھر جاؤ گے

    سچ کہو شام کی آوارہ ہوا کے جھونکو

    اس کی خوشبو کے تعاقب میں کدھر جاؤ گے

    آگے بڑھ جائیں گے پھر دونوں ہی چپ چپ، یوں تو

    میں پکاروں گا تمہیں، تم بھی ٹھہر جاؤ گے

    ضبط احساس کے زنداں سے کہیں بھاگ چلو

    اور کچھ دیر یہاں ٹھہرے تو مر جاؤ گے

    نقش امروز سے آگے نہ نگاہیں دوڑاؤ

    کل کی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے

    میں بھی سایہ ہوں سیہ رات میں کھو جاؤں گا

    تم بھی اک خواب ہو پل بھر میں بکھر جاؤ گے

    راستے شہر کے سب بند ہوئے ہیں تم پر

    گھر سے نکلو گے تو مخمورؔ کدھر جاؤ گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY