چل رہے ہیں وہ ایسی شان سے آج

برقی اعظمی

چل رہے ہیں وہ ایسی شان سے آج

برقی اعظمی

MORE BYبرقی اعظمی

    چل رہے ہیں وہ ایسی شان سے آج

    جیسے آئے ہوں آسمان سے آج

    آستیں میں جو ان کی تھا کل تک

    تیر نکلا ہے وہ کمان سے آج

    شمع کے ارد گرد پروانے

    ہاتھ دھوئیں نہ اپنی جان سے آج

    اپنا سب کچھ لٹا کے ہوش آیا

    شیخ جی مل رہے ہیں خان سے آج

    گل کھلائیں گے کیا ابھی کچھ اور

    لگ رہے ہیں وہ مہربان سے آج

    کر رہے ہیں جو وعدۂ فردا

    پھر گئے اپنی وہ زبان سے آج

    نہ مٹا دے وہ ان کا نام و نشاں

    آہ نکلی ہے جو زبان سے آج

    بھول بیٹھے ہیں اپنی جو اوقات

    گر پڑیں وہ نہ آسمان سے آج

    کہہ رہے ہیں وہ آ کے برقیؔ سے

    جاؤ نکلو مرے مکان سے آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY