چلے گی نہ اے دل کوئی گھات ہرگز

سرسوتی سرن کیف

چلے گی نہ اے دل کوئی گھات ہرگز

سرسوتی سرن کیف

MORE BY سرسوتی سرن کیف

    چلے گی نہ اے دل کوئی گھات ہرگز

    نہیں ان سے ہوگی ملاقات ہرگز

    بہت کوشش ضبط کی ہم نے لیکن

    ٹھہرتے نہیں دل میں جذبات ہرگز

    تو بقراط دوراں ہے ناصح مگر ہم

    سنیں گے نہ تیرے مقالات ہرگز

    جو جاں بازیوں کی چلے چال اس کو

    بساط وفا پر نہ ہو مات ہرگز

    امیدوں کے جگنو چمکتے ہیں لیکن

    نہ ٹھہریں گے دم بھر یہ لمعات ہرگز

    ہے کیا زیست کیا حاصل زندگی ہے

    نہیں ہوتے حل پہ سوالات ہرگز

    وہ چمکا کریں لاکھ پر ہو سکیں گے

    مقابل نہ سورج کے ذرات ہرگز

    ہمارا ہے حق وفا دیں نہ دیں پر

    نہ مانگیں گے ہم ان سے خیرات ہرگز

    تن آسانو، الفت سے باز آؤ تم سے

    اٹھیں گے نہ غم کے صعوبات ہرگز

    نکیرین آئے ہیں کچھ کہہ کے ٹالو

    ٹلیں گے نہ ورنہ یہ حضرات ہرگز

    غلط بات ہے پر یہ لگتا ہے جیسے

    کٹے گی نہ اب ہجر کی رات ہرگز

    نہ گھبراؤ تم عارضی ہیں یہ آنسو

    مسلسل نہ ہوگی یہ برسات ہرگز

    زیاں بھی اٹھائے ہیں پر ہم نے یارو

    نہیں دل میں رکھی کوئی بات ہرگز

    وہ گزری ہے ہم پر جو مجنوں پہ گزری

    بدلتے نہیں غم کے حالات ہرگز

    دل کیفؔ ہے اک رباب شکستہ

    اٹھیں گے نہ اب اس سے نغمات ہرگز

    مآخذ:

    • کتاب : Shuur-e-Lashuuri (Pg. 39)
    • Author : Sarsvati Saran kaif
    • مطبع : Monthly Shan-e-Hind (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY