چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں

آغا حجو شرف

چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں

آغا حجو شرف

MORE BYآغا حجو شرف

    چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں

    طے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیں

    عشق کس واسطے کرتے ہیں پری زادوں سے

    کس لیے جان پر آفت یہ بشر لیتے ہیں

    دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو

    اک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں

    خاک اڑ جاتی ہے ستھراو ادھر ہوتا ہے

    نیمچا کھینچ کے وہ باگ جدھر لیتے ہیں

    میں وہ بیمار ہوں اللہ سے جا کے عیسیٰ

    مرے نسخوں کے لیے حکم اثر لیتے ہیں

    یار نے لوٹ لیا مجھ وطن آوارہ کو

    لوگ غربت میں مسافر کی خبر لیتے ہیں

    اس طرف ہیں کہ جھروکے میں ادھر بیٹھے ہیں

    جائزہ کشتوں کا اپنے وہ کدھر لیتے ہیں

    ٹھیک اس رشک چمن کو وہ قبا ہوتی ہے

    ناپ کر جس کی رگ گل سے کمر لیتے ہیں

    کچھ ٹھکانا ہے پری زادوں کی بے رحمی کا

    عشق بازوں سے قصاص آٹھ پہر لیتے ہیں

    یہ نیا ظلم ہے غصہ جو انہیں آتا ہے

    بے گناہوں کو بھی ماخوذ وہ کر لیتے ہیں

    شہرت اس صید وفادار کی اڑ جاتی ہے

    تیر میں جس کے لگانے کو وہ پر لیتے ہیں

    کہتے ہیں حوروں کے دل میں ترے کشتوں کے بناؤ

    اس لئے خوں میں نہا کر وہ نکھر لیتے ہیں

    کس قدر نامہ و پیغام کو ترسایا ہے

    بھیجتے ہیں خبر اپنی نہ خبر لیتے ہیں

    دم نکلتے ہیں کلیجوں سے لہو جاری ہے

    سانس الٹی ترے تفتیدہ جگر لیتے ہیں

    چل کھڑے ہوں گے تو ہستی میں نہ پھر ٹھہریں گے

    جان جاں چند نفس دم یہ بشر لیتے ہیں

    ہے اشارہ یہی مو ہائے مژہ کا ان کی

    ہم وہ نشتر ہیں کہ جو خون جگر لیتے ہیں

    سامنا کرتے ہیں جس وقت گدا کا تیرے

    بادشہ تخت رواں پر سے اتر لیتے ہیں

    سکۂ داغ جنوں پاس ہیں رہنا ہشیار

    لوگ رستے میں شرفؔ جیب کتر لیتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY