چمن اپنے رنگ میں مست ہے کوئی غم گسار دگر نہیں

فگار اناوی

چمن اپنے رنگ میں مست ہے کوئی غم گسار دگر نہیں

فگار اناوی

MORE BY فگار اناوی

    چمن اپنے رنگ میں مست ہے کوئی غم گسار دگر نہیں

    کہ ہے شبنم اشک فشاں مگر گل تر کو کوئی خبر نہیں

    غم زندگی کا علاج تو کبھی موت سے بھی نہ ہو سکا

    یہ وہ سخت قید حیات ہے کسی طرح جس سے مفر نہیں

    مرے پاس جو بھی تھا لٹ گیا نہ وہ میں رہا نہ وہ دل رہا

    کسی اور شے کا تو ذکر کیا کہ اب آہ میں بھی اثر نہیں

    یہ تصورات کی وسعتیں یہ تخیلات کی رفعتیں

    وہاں جلوے دیکھ رہا ہوں میں جہاں اختیار نظر نہیں

    ترے حسن کا یہ کمال ہے کہ خود آپ اپنی مثال ہے

    وہ جمال ہی تو جمال ہے جو کسی کا عکس نظر نہیں

    جو ہیں بے عمل وہ ہیں با عمل جو ہیں بے ہنر وہ ہیں با ہنر

    عجب انقلاب زمانہ ہے کہیں قدر اہل ہنر نہیں

    مجھے اے فگارؔ نہ مل سکا کوئی لمحہ صبح نشاط کا

    مری زندگی ہے وہ شام غم کہ جو روشناس سحر نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Harf-o-nava (Pg. 134)
    • Author : Figaar Unnavi
    • مطبع : umesh bahadur sirivasto figaar unnavi (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY