چند حرفوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

رفیق راز

چند حرفوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    چند حرفوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

    یعنی کاغذ پہ کوئی حشر اٹھا رکھا ہے

    مجھ کو تو اپنے سوا کچھ نظر آتا ہی نہیں

    میں نے دیواروں کو آئینہ بنا رکھا ہے

    آپ کے پاؤں تلے سے بھی کھسکتی ہے زمیں

    آپ نے کیوں یہ فلک سر پہ اٹھا رکھا ہے

    مصحف ذات کی تفسیر ہے یہ گہری چپ

    چپ ہی معنی ہے میاں حرف میں کیا رکھا ہے

    مجھ پہ تو بھاری نہیں کوئی شب ہجر مجھے

    زخموں نے سرو چراغان بنا رکھا ہے

    میرا ہر کام قیامت ہی اٹھا دیتا ہے

    تو نے ہر کام قیامت پہ اٹھا رکھا ہے

    گلشن دل ابھی شاداب ہے پژمردہ نہیں

    موسم غم نے اسے کتنا ہرا رکھا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 154)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY