چراغ ظلمت بے نور میں جلانا ترا

نبیل احمد نبیل

چراغ ظلمت بے نور میں جلانا ترا

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    چراغ ظلمت بے نور میں جلانا ترا

    پسند آیا نہ لوگوں کو آستانہ ترا

    یوں ہی گزارو گے تم عرصۂ حیات اگر

    نہ ہوگا ایک بھی پل کوئی جاودانہ ترا

    بہت قریب سے میں تجھ کو جانتا ہوں میاں

    ہر ایک خوب سمجھتا ہوں میں بہانہ ترا

    ہمیں بناؤ گے جس وقت لشکری اپنا

    خطا نہ ہوگا کسی طور بھی نشانہ ترا

    نہ کوئی تجھ کو بچائے گا قتل ہونے سے

    پڑھیں گے لوگ جنازہ بھی غائبانہ ترا

    نہ دے گا کوئی بھی مشکل گھڑی میں ساتھ ترا

    اگرچہ آج یہ گرویدہ ہے زمانہ ترا

    سوائے ایک کفن کے نہ کچھ ملے گا تجھے

    کسی بھی کام نہ آئے گا یہ خزانہ ترا

    اسے بدلنا ہے اک روز خاک میں آخر

    سجا کے رکھے گا جو بھی نگار خانہ ترا

    نبیلؔ اس کے سوا اور کیا دیا تم نے

    ہماری پیٹھ ہے اور دوست تازیانہ ترا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY