چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں

جوشش عظیم آبادی

چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں

جوشش عظیم آبادی

MORE BYجوشش عظیم آبادی

    چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں

    ہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیں

    باعث آرام یہ نے موجب آزار وہ

    چشم وحدت میں ہی گل اور خار دونوں ایک ہیں

    التیام زخم دل کے حق میں گر کیجے نگاہ

    سبزۂ خط مرہم زنگار دونوں ایک ہیں

    حالت استغنا کی جس کے ہاتھ آئی ہے یہاں

    اس کے نزدیک اندک و بسیار دونوں ایک ہیں

    میرے اس کے گو جدائی آ گئی ہے درمیاں

    جس گھڑی باہم ہوئے دو چار دونوں ایک ہیں

    جو نہ مانے اس کو عاشق ہو کے اس پہ دیکھ لے

    ابروئے خم دار اور تلوار دونوں ایک ہیں

    کیا کہوں میں اس کو آنکھوں نے دیئے ہیں جو فریب

    فن مکاری میں یہ مکار دونوں ایک ہیں

    جو ہے کعبہ وہ ہی بت خانہ ہے شیخ و برہمن

    اس کی ناحق کرتے ہو تکرار دونوں ایک ہیں

    یہ نہیں کہنے کا ؔجوشش ہوگا جو صاحب دماغ

    زلف یار و نافۂ تاتار دونوں ایک ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY