چہرہ سالم نہ نظر ہی قائم

فضا ابن فیضی

چہرہ سالم نہ نظر ہی قائم

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    چہرہ سالم نہ نظر ہی قائم

    بے ستوں سب کی حویلی قائم

    ہاتھ سے موجوں نے رکھ دی پتوار

    کیسے دھارے پہ ہے کشتی قائم

    زیست ہے کچے گھڑے کے مانند

    بہتے پانی پہ ہے مٹی قائم

    سائے دیوار کے ٹیڑھے ترچھے

    اور دیوار کہ سیدھی قائم

    سب ہیں ٹوٹی ہوئی قدروں کے کھنڈر

    کون ہے وضع پہ اپنی قائم

    خود کو کس سطح پر زندہ رکھوں

    لفظ دائم ہیں نہ معنی قائم

    ہے بڑی بات جو رہ جائے فضاؔ

    سطح سنجیدہ نگاہی قائم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY