چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے

شجاع خاور

چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے

شجاع خاور

MORE BY شجاع خاور

    چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے

    دل میں بیتابی رکھی ہے

    اک دو دن سے جینے والو

    ہم نے کافی جی رکھی ہے

    دل کے شجر نے کس محنت سے

    اک اک شاخ ہری رکھی ہے

    وصل ہوا پر دل میں تمنا

    جیسی تھی ویسی رکھی ہے

    غیر کی کیا رکھے گا یہ درباں

    ظالم نے کس کی رکھی ہے

    ہوس میں کچھ بھی کر سکتے ہو

    عشق میں پابندی رکھی ہے

    رند کھڑے ہیں منبر منبر

    اور واعظ نے پی رکھی ہے

    راکھ قلندر کی لے جاؤ

    آگ کہاں باقی رکھی ہے

    اک تو باتونی ہے خاورؔ

    اوپر سے پی بھی رکھی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY