چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا

فضا ابن فیضی

چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    چھاؤں کو تکتے دھوپ میں چلتے ایک زمانہ بیت گیا

    حسرتوں کی آغوش میں پلتے ایک زمانہ بیت گیا

    آج بھی ہیں وہ سلگے سلگے تیرے لب و عارض کی طرح

    جن زخموں پر پنکھا جھلتے ایک زمانہ بیت گیا

    میں اب اپنا جسم نہیں ہوں صرف تمہارا سایہ ہوں

    موسم کی یہ برف پگھلتے ایک زمانہ بیت گیا

    اب تک اپنے ہاتھ نہ آیا سرمئی چھاؤں کا دامن بھی

    چاندی جیسی دھوپ میں جلتے ایک زمانہ بیت گیا

    وقت مداری ہے کیا جانے کھیل اپنا کب ختم کرے

    سانسوں کی اس ڈور پہ چلتے ایک زمانہ بیت گیا

    زندگی اور لمحوں کا تعاقب جن کا کوئی اور نہ چھور

    صدیوں صدیوں موڑ بدلتے ایک زمانہ بیت گیا

    اب بھی تری محراب سخن میں شمعیں سی روشن ہیں فضاؔ

    سورج کو یہ آگ اگلتے ایک زمانہ بیت گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY