چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

اثر لکھنوی

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

اثر لکھنوی

MORE BYاثر لکھنوی

    چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

    دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی

    ہر چند اشک یاس جب امڈے تو پی گئے

    چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی

    میں نے تو ہونٹ سی لیے اس دل کو کیا کروں

    بے اختیار تم کو پکارا کبھی کبھی

    زہر الم کی اور بڑھانے کو تلخیاں

    بے مہریوں کے ساتھ مدارا کبھی کبھی

    رسوائیوں سے دور نہیں بے قراریاں

    دل کو ہو کاش صبر کا یارا کبھی کبھی

    قطرہ سے ایک موج یہ کہتی نکل گئی

    ساحل سے مصلحت ہے کنارا کبھی کبھی

    اے شاہد جمال کوئی شکل ہے کی ہو

    تیری نظر سے تیرا نظارہ کبھی کبھی

    ہنگام گریہ آہ سے ناداں اثرؔ حذر

    اڑتا ہے اشک جیسے شرارہ کبھی کبھی

    مأخذ :
    • کتاب : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 44)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے