داستان فطرت ہے ظرف کی کہانی ہے

حیات وارثی

داستان فطرت ہے ظرف کی کہانی ہے

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    داستان فطرت ہے ظرف کی کہانی ہے

    جتنا اتھلا دریا ہے اتنا تیز پانی ہے

    جن لبوں نے سینچا ہے تشنگی کے خاروں کو

    اب انہیں کے حصے میں جام کامرانی ہے

    پھر سے کھلنے والا ہے کوئی تازہ گل شاید

    باغباں کی پھر ہم پر خاصی مہربانی ہے

    عقل کب سے بھٹکے ہے نفرتوں کی وادی میں

    پیار کی مگر اب بھی دل پہ حکمرانی ہے

    زخم کھاتے رہتے ہیں مسکراتے رہتے ہیں

    ہم وفا شناسوں کی یہ ادا پرانی ہے

    برف بن گئے ارماں منجمد ہوئے جذبے

    زیست کے سمندر میں کتنا سرد پانی ہے

    اپنے سائے سے ہم خود اے حیات ڈرتے ہیں

    مصلحت کی دنیا میں کتنی بد گمانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY