در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں

شبنم شکیل

در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں

شبنم شکیل

MORE BYشبنم شکیل

    در آیا اندھیرا آنکھوں میں اور سب منظر دھندلائے ہیں

    یہ وقت ہے دل کے ڈوبنے کا اور شام کے گہرے سائے ہیں

    یہ ذرا ذرا سی خوشیاں بھی تو لاکھ جتن سے ملتی ہیں

    مت چھیڑو ریت گھروندوں کو کس مشکل سے بن پائے ہیں

    وہ لمحہ دل کی اذیت کا تو گزر گیا اب سوچنے دو

    کیا کہنا ہوگا ان سے مجھے جو پرسش غم کو آئے ہیں

    جلتی ہوئی شمعوں نے اکثر احساس کی راکھ کو بھڑکایا

    قربت میں دمکتے چہروں کی تنہائی کے دکھ یاد آئے ہیں

    سوچوں کو تر و تازہ رکھا شبنمؔ ترے پیہم اشکوں نے

    حیرت ہے کہ عہد خزاں میں بھی یہ پھول نہیں کمھلائے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Shab Zaad (Pg. 73)
    • Author : Shabnam Shakeel
    • مطبع : Mavaraa Publications (1978)
    • اشاعت : 1978

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY