درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی

عاجز ماتوی

درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی

عاجز ماتوی

MORE BYعاجز ماتوی

    درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی

    اکثر چارہ گروں کی حالت مجھ سے سوا گمبھیر ہوئی

    کیا جانے کیوں مجھ سے میری برگشتہ تقدیر ہوئی

    مملکت عیش آنکھ جھپکتے ہی غم کی جاگیر ہوئی

    اس نے میرے شیشۂ دل کو دیکھ کے کیوں منہ موڑ لیا

    شاید اس آئینے میں اس کو ظاہر کوئی لکیر ہوئی

    جب بھی لکھا حال دل مضطر میں نے اس کو رات گئے

    تا بہ سحر اشک افشانی سے ضائع وہ تحریر ہوئی

    بڑھتی جاتی ہے دورئ منزل جب سے جنوں نے چھوڑا ساتھ

    اب تو خرد ہر گام پر اپنے پیروں کی زنجیر ہوئی

    مجھ کو عطا کرتے وہ یقیناً میری طلب سے سوا لیکن

    خودداری میں ہاتھ نہ پھیلا شرم جو دامن گیر ہوئی

    کس کو خبر ہے ان کی گلی میں کتنے دلوں کا خون ہوا

    رعنائی میں ان کی گلی جب وادئ کشمیر ہوئی

    ان سے کروں اظہار تمنا سوچا رکھ کر عذر جنوں

    لیکن وہ بھی راس نہ آیا لا حاصل تدبیر ہوئی

    ٹپ ٹپ آنکھ سے آنسو ٹپکے عاجزؔ آہ سرد کے ساتھ

    میرے سامنے نذر آتش جب میری تصویر ہوئی

    مآخذ :
    • کتاب : mahbas-e-gham (Pg. 99)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY