درون میکدہ کس درجہ حسرت ریز ہے ساقی

قاضی غلام محمد

درون میکدہ کس درجہ حسرت ریز ہے ساقی

قاضی غلام محمد

MORE BYقاضی غلام محمد

    درون میکدہ کس درجہ حسرت ریز ہے ساقی

    جو گرد آلود کرسی ہے تو ٹوٹی میز ہے ساقی

    نہ کیوں حور جناں کے ذکر سے محظوظ ہو واعظ

    یہ اس کے توسن دل کے لیے مہمیز ہے ساقی

    مرے اوقات گریہ ٹائم ٹیبل پر مقرر ہیں

    یہ بندہ عشق کے بارے میں بھی انگریز ہے ساقی

    جلا کر رکھ دیا ہے اس نے شہر آرزو میرا

    ترا دربان اصلی وارث چنگیز ہے ساقی

    ذرا اس اونگھتے مے کش کی اک بھرپور چٹکی لے

    گلابی ناخن تدبیر تیرا تیز ہے ساقی

    وہ میرے دو نئے پیسے ہی اپنے پرس میں رکھ لے

    کہ اس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہے ساقی

    رقیب رو سیہ سر پھوڑ لے گا کوہ کن بن کر

    ترا شوہر خدا کے فضل سے پرویز ہے ساقی

    مرا حصہ مجھے چھپ کر ہی مل جائے تو بہتر ہے

    گدائے مے کدہ غیروں سے کم آمیز ہے ساقی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY