دیار جسم سے صحرائے جاں تک

رفیق راز

دیار جسم سے صحرائے جاں تک

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    دیار جسم سے صحرائے جاں تک

    اڑوں میں خاک سا آخر کہاں تک

    کچھ ایسا ہم کو کرنا چاہیئے اب

    اتر آئے زمیں پر آسماں تک

    بہت کم فاصلہ اب رہ گیا ہے

    بپھرتی آندھیوں سے بادباں تک

    میسر آگ ہے گل کی نہ بجلی

    اندھیرے میں پڑے ہیں آشیاں تک

    یہ جنگل ہے نہایت ہی پر اسرار

    قدم رکھتی نہیں اس میں خزاں تک

    وہیں تک کیوں رسائی ہے ہماری

    نقوش پا زمیں پر ہیں جہاں تک

    نکل آؤ حصار خامشی سے

    جو دل میں ہے وہ لاؤ بھی زباں تک

    یہاں شیطاں پہ ہے اک لرزہ طاری

    نہیں اٹھتا چراغوں سے دھواں تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے